فلک پر محرم کا چاند نمودار ہو گیا

حوزہ/آہ! پھر آسمانِ ولایت پر غم کا ہلال طلوع ہو گیا، پھر فضاؤں میں ایک انجانی اداسی اتر آئی، پھر دلوں میں کربلا کی یاد نے دستک دی، پھر منبروں کو حسینؑ کا ذکر نصیب ہونے والا ہے، پھر ماتمی دستوں کی صدائیں بلند ہوں گی، پھر سیاہ علم اور عزا کے پرچم ہواؤں سے ہم کلام ہوں گے، پھر اشکوں کی ایک نہر دلوں سے آنکھوں تک رواں ہو گی۔

تحریر:مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی| آہ! پھر آسمانِ ولایت پر غم کا ہلال طلوع ہو گیا، پھر فضاؤں میں ایک انجانی اداسی اتر آئی، پھر دلوں میں کربلا کی یاد نے دستک دی، پھر منبروں کو حسینؑ کا ذکر نصیب ہونے والا ہے، پھر ماتمی دستوں کی صدائیں بلند ہوں گی، پھر سیاہ علم اور عزا کے پرچم ہواؤں سے ہم کلام ہوں گے، پھر اشکوں کی ایک نہر دلوں سے آنکھوں تک رواں ہو گی۔

یہ کوئی عام چاند نہیں...

یہ وہ چاند ہے جسے دیکھ کر غمِ فاطمہؑ کے امین اپنے دلوں پر ہاتھ رکھ لیتے ہیں، یہ وہ چاند ہے جو اپنے ساتھ صحرائے کربلا کی تپش، فرات کی محرومی، سکینہؑ کی تشنگی، عباسؑ کی وفا، اکبرؑ کی جوانی، اصغرؑ کی معصومیت اور زینبِ کبریٰؑ کے صبر کی پوری داستان لے کر آتا ہے۔

محرم کا چاند طلوع ہوتا ہے تو مدینہ کی فضائیں یاد آنے لگتی ہیں۔ وہ گلیاں یاد آتی ہیں جن میں حسینؑ چلتے تھے۔ وہ مسجد یاد آتی ہے جہاں رسولِ خداؐ حسینؑ کو اپنے دوشِ مبارک پر بٹھا کر فرمایا کرتے تھے: "اللّٰهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ"

وہ گھر یاد آتا ہے جہاں فاطمہ زہراؑ اپنے لعل کو دیکھ کر مسکراتی تھیں۔

مگر کون جانتا تھا کہ اسی گھر کے چراغ کو ایک دن امت کی بے وفائیوں کے صحرا میں تنہا چھوڑ دیا جائے گا۔

یہ چاند دیکھتے ہی دل مدینہ سے مکہ اور مکہ سے کربلا تک کا سفر طے کرنے لگتا ہے۔

دوسری محرم آئی، قافلۂ حسینی کربلا پہنچ گیا، امام حسین علیہ السلام سواری سے اترتے ہیں، ایک مٹھی خاک اٹھاتے ہیں، اسے سونگھتے ہیں اور فرماتے ہیں: "هٰهُنَا مَحَطُّ رِحَالِنَا، وَهٰهُنَا مَسْفَكُ دِمَائِنَا"

یہیں ہمارے قافلے کا پڑاؤ ہوگا، اور یہیں ہمارا خون بہایا جائے گا۔

پھر خیمے نصب ہو جاتے ہیں، بچوں کی آوازیں آتی ہیں، اصحاب پہرہ دے رہے ہیں، خواتین خیموں میں جا رہی ہیں، مگر آسمان جانتا ہے کہ چند روز بعد یہی خیمے جلائے جائیں گے، یہی بچے یتیم ہوں گے، یہی خواتین اسیر ہوں گی اور یہی زمین شہداء کے خون سے سرخ ہو جائے گی۔

دن گزرتے ہیں. محرم آگے بڑھتا ہے اور غم قریب آتا جاتا ہے۔

سات محرم کو اہلِ بیت علیہم السلام پر فرات کا پانی بند کر دیا جاتا ہے۔

دریا بہہ رہا ہے. موجیں اٹھ رہی ہیں. مگر خیموں میں تشنگی کا راج ہے۔

سکینہؑ کبھی خالی مشکیزے کو دیکھتی ہیں. کبھی اپنے چچا عباسؑ کو. کبھی بابا حسینؑ کے چہرے کو اور پھر خاموش ہو جاتی ہیں۔

رات ہوتی ہے. خیموں میں اندھیرا پھیل جاتا ہے. مگر ایک آواز مسلسل بلند ہو رہی ہے:

العطش... العطش... العطش...

یہ صرف بچوں کی آواز نہیں. یہ انسانیت کے ضمیر پر ایک سوال ہے. جو آج بھی جواب مانگ رہا ہے۔

پھر 9 محرم آتی ہے، شبِ عاشور، وفا کی آخری رات، عبادت کی آخری رات.

امام حسین علیہ السلام اپنے اصحاب کو جمع کرتے ہیں۔ چراغ گل کر دیتے ہیں۔ فرماتے ہیں: "میں اپنے اصحاب سے زیادہ وفادار اور بہتر اصحاب نہیں جانتا، تم سب آزاد ہو۔"

مگر وفا کے پیکر کھڑے ہو جاتے ہیں۔حبیبؑ بولتے ہیں، زہیرؑ بولتے ہیں، مسلم بن عوسجہؑ بولتے ہیں، بنی ہاشم بولتے ہیں اور سب کی زبان پر ایک ہی صدا ہے: "مولا! آپ کے بعد زندگی کا کیا مصرف؟"

اس رات خیموں سے تلاوتِ قرآن کی صدائیں آ رہی ہیں، ذکر و مناجات کی خوشبو اٹھ رہی ہے اور فرشتے گریہ کر رہے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ صبح ہوتے ہی کربلا میں وفا کی آخری تفسیر لکھی جائے گی۔

پھر عاشورا کا سورج طلوع ہوتا ہے، مگر یہ کوئی عام صبح نہیں، یہ وہ صبح ہے جس کے غروب ہونے تک رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کا چراغ بجھا دیا جائے گا، پھر ایک ایک کر کے اصحاب میدان میں جاتے ہیں اور ایک ایک کر کے شمعِ وفا پر قربان ہوتے جاتے ہیں۔

پھر علی اکبرؑ میدان میں جاتے ہیں، رسولِ خداؐ کی شبیہ، نبوت کی خوشبو، جوانی کا حُسن اور باپ کی امیدوں کا مرکز...

امامؑ نگاہ اٹھا کر فرماتے ہیں: "اللّٰهُمَّ اشْهَدْ عَلٰی هٰؤُلَاءِ الْقَوْمِ، فَقَدْ بَرَزَ إِلَيْهِمْ غُلَامٌ أَشْبَهُ النَّاسِ خَلْقًا وَخُلُقًا وَمَنْطِقًا بِرَسُولِكَ"

کبھی عباسؑ جاتے ہیں، وفا جاتی ہے، غیرت جاتی ہے، امید جاتی ہے، اور جب علمدارِ کربلا زمین پر گرتا ہے تو حسینؑ کی زبان سے ایک ٹوٹی ہوئی آہ نکلتی ہے: "الآنَ انْكَسَرَ ظَهْرِي وَقَلَّتْ حِيلَتِي" اب میری کمر ٹوٹ گئی، اب میرا سہارا مجھ سے جدا ہو گیا...

مگر ابھی کربلا کا سب سے بڑا زخم باقی ہے، علی اصغرؑ، چھ ماہ کا معصوم، سوکھے ہوئے لب، بجھتی ہوئی سانسیں اور پھر ایک تیر۔۔ ایسا تیر جس نے صرف ایک بچے کے گلے کو نہیں چھیدا بلکہ انسانیت کے سینے کو زخمی کر دیا۔

پھر وقت آتا ہے جب حسینؑ تنہا رہ جاتے ہیں، نہ اکبرؑ ہیں، نہ عباسؑ ہیں، نہ قاسمؑ ہیں، نہ حبیبؑ ہیں، صرف حسینؑ ہیں اور ہزاروں تلواریں...

صرف حسینؑ ہیں اور خیموں میں خواتین اور بچے۔

صرف حسینؑ ہیں اور درِ خیمہ پر کھڑی زینبِ کبریٰؑ. جو اپنے بھائی کو دیکھ رہی ہیں، اپنی پناہ کو دیکھ رہی ہیں، اپنی کائنات کو دیکھ رہی ہیں اور تاریخ اس منظر پر آج تک اشکبار ہے۔

آج محرم کا چاند پھر طلوع ہوا ہے، آج پھر حسینؑ کا غم ہمارے دروازے پر آیا ہے، آج پھر فاطمہؑ اپنے لعل کا پرسہ لینے آئی ہیں، آج پھر زینبؑ ہمیں وفا، صبر، ایثار اور استقامت کا درس دینے آئی ہیں...

پس آؤ! اپنے دلوں کو کربلا بنا لیں، اپنی آنکھوں کو اشکِ عزا کا دریا بنا لیں، اپنی زندگیوں کو پیغامِ حسینؑ کا آئینہ بنا لیں اور اپنے لبوں پر یہ صدا جاری رکھیں:

السلام علی الحسین...

وعلی علی بن الحسین...

وعلی اولاد الحسین...

وعلی اصحاب الحسین...

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha